”اگر پاکستان کا مطلب یہی ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے“ قائدِ اعظم

ہمیں کیسا پاکستان چاہئے؟

ایک نئی وڈیو لاگ  آپ کے سامنے پیش کرنے کی خواہش بھی ہے،  تقسیم سے پہلے جموں و کشمیر پہ ہونے والی حساس نوعیت کی خط و کتابت پہ مبنی ریکارڈ کا کتابچہ مکمل کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے، کچھ ہندو ریاستوں کی پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے قائدِ اعظم کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی کہانیاں بھی پیش کرنا چاہتا ہوں، ساٹھ کی دھائی کے سنہرے معاشی انقلاب کے  بہت سے تاریک پہلو بھی زیرِ بحث لانا چاہتا ہوں، مگر میرا قلم لڑکھڑا گیا ہے، میرا ذہن ماؤف ہے، میرے ا عصاب شل ہیں، میں چلانا چاہتا ہوں مگر میں ایک ایسے غار میں کھڑا ہوں جہاں میری چیخ کی بازگشت صرف میرے اوپر ہتھوڑے برسائے گی، میں دوڑنا چاہتا ہوں مگر میرے سامنے ایک لق و دق صحرا ہےاور کسی بھی سمت کی طرف چلنا ایک لاحاصل سی جستجو محسوس ہوتی ہے ۔۔ ۔۔میرے سامنے آج کی زندہ حقیقت  ااسٹیٹ بینک آف پاکستان سے متعلق کابینہ کی جانب سے اس قانون کی منظوری ہے جو ہمارے گلے میں  طوقِ غلامی ڈال چکا ہے، میرے سامنے برصغیر کی پوری تاریخ ہے کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے چند عیار ذہنوں نے یرغمال بنا کے بادشاہوں کو گداگر بنا دیا تھا، کس طرح  سات سمندر پار سے آنے والے مٹھی بھر تاجروں نے کرائے کے فوجیوں کی مدد سےایک عظیم الشان سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے انہیں چھ سو کے قریب چھوٹی بڑی ریاستوں میں تقسیم کردیا تھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2021
ڈیلی ڈان کراچی

 

دوستوں کو پہچانو، دشمنوں کو پہچانو، بائیس کروڑ انسانو

آج پھر ہم ایک شکنجہ میں قید کئے جارہے ہیں، ہم پہ عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، ہماری سانسیں گروی رکھی جارہی ہیں، ہمارے بچوں کا مستقبل تاریک کیا جارہا ہے۔  انگریزوں نے ہندوستان کو ایک صنعتی ملک سے زرعی ملک میں تبدیل کردیا تھا اور ہمیں اپنی صنعتوں کا محتاج بنا دیا تھا،  حکومت کی  کوتاہ اندیشیوں نے آج ہماری زراعت کو بھی تباہ کردیا ہے اور  پورے برصغیر کو گندم مہیا کرنے والا خطہ آج گندم درآمد کرنے پہ مجبور ہے، دنیا کی بہترین کپاس کی کاشت کرنے والا ملک آج اپنے دشمن ملک سے روئی کی خریداری کررہاہے۔ حکومتی بنچوں پہ بیٹھے  ذاتی مفادات کے حامل مگر مچھوں نے سر پلس گنا پیدا کرنے والے ملک  میں چینی کی قیمتوں کو آسمان پہ پہنچا دیا ہے، کالے دھن  کو سفید کرنےکی ایک بہت بڑی ایمنسٹی دینے کے بعد اس تسلسل کو جاری رکھنے کیلئے تعمیراتی اسکیم کی آڑ میں  بڑے سرمایہ کاروں کو اس راہ  پہ لگا دیا گیا ہے کہ اپنے  کاروبار میں ٹیکس چوری کئے جاؤ اور  تعمیراتی منصوبوں  میں پیسہ لگا کے کالا دھن سفید کئے جاؤ۔ ایوب خانی دور کی کہانی پھر دھرائی جارہی ہے  اوردولت کا ارتکاز تیزی کے ساتھ چند ہاتھوں میں منتقل ہورہا ہے،  معمولی امیر افراد کی حیثیت اب اوسط درجے کی ہوتی جارہی ہے اور ایک بڑی تعداد کا حامل مڈل کلاس طبقہ  غربت کے اندھیروں میں دھکیلا جارہا ہے۔

دیکھئے علامہ اقبال نے کیا کہا تھا،

بندۂ مزدور کو جا کر مرا پیغام دے

خضر کا پیغام کیا ہے یہ   پيام کائنات

اے کہ تجھ کو کھا گیا سرمايہ‌‌ دار حيلہ گر

شاخ آہو پر رہی صدیوں تلک تیری برات

دست دولت آفريں کو مزد یوں ملتی رہی

اہل ثروت جیسے دیتے ہیں غریبوں کو زکوٰۃ

ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشيش

اور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات

نسل قومیت کلیسا سلطنت تہذیب رنگ

خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات

کٹ مرا ناداں خیالی دیوتاؤں کے لیے

سکر کی لذت میں تو لٹوا گیا نقد حیات

مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار

انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات

 

کیا ہم اپنی تباہی کے یہ مناظر بے بسی سے دیکھتے رہیں گے؟کیا آنسوؤں، امنگوں اور لاکھوں افراد کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والا یہ ملک، اسی طرح لٹتا اور برباد ہوتا رہے گا اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ کیا بانیانِ پاکستان کی جدوجہد کو ہم اپنی بےحسی کی بھینٹ چڑھا دیں گے، کیا حصولِ پاکستان محض ایک خطۂ ارضی کا حصول تھا؟

آج حرف آخر ہے

بات چند لوگوں کی

دن ہے چند لوگوں کا

رات چند لوگوں کی

اٹھ کے درد مندوں کے

صبح و شام بدلو بھی

جس میں تم نہیں شامل

وہ نظام بدلو بھی

دوستوں کو پہچانو

دشمنوں کو پہچانو

(بائیس) کروڑ انسانو!

(حبیب جالب)

نوٹ! (نظم میں دس کروڑ انسانو ہے جو اس وقت کی آبادی تھی)

 

 

کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا یہ پاکستان کا مقصد ہے؟

یاد کیجئے قائدِ اعظم نے  آل انڈیا مسلم لیگ کے پچیسویں اجلاس کے خطبۂ صدارت منعقدہ اکتوبر 1937، لکھنؤ میں کیا کہا تھا،

” مَیں ہر صوبے، ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر شہر  میں ہندوستان کے مسلمانوں سے کہتا ہوں، آپ کا اولین فرض عوام کی فلاح کا ایک تعمیری اور رفاہی لائحۂ عمل بنانا اور مسلمانوں کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی بہتری کے لیے طریقے اور ذرائع  تلاش کرنا ہے۔“

اور پھر اپریل 1938ء میں منعقد ہونے والے کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں قائدِ اعظم نے فرمایا تھا،

” ہمیں، موجودہ حالات میں، اپنے لوگوں کو منظم کرنا ہے، مسلم عوام کو ایک بہتر دنیا کے لیے  اور اُن کی حالت کو فوری طور پر بہتر بنانے کے لیے تقویت دینی ہے، اور ہمیں تعمیری اور فلاحی نوعیت کے منصوبے بنانے ہیں جو اُنہیں اُس غربت اور افلاس سے فوری طور پر نجات دلائیں جس  کے ہاتھوں وہ ہندوستان کے کسی اور حصے سے زیادہ  تکلیف اُٹھا رہے ہیں۔“

میں اپنے  لڑکھڑاتے قلم کو قائدِ اعظم کے اس فرمان کے ساتھ روکتا ہوں جو انہوں نے 24 اپریل  1943ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے تیسویں اجلاس  منعقدہ دہلی کے خطبۂ صدارت میں ارشاد فرمایا تھا،

” یہاں میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں جو ہمیں نقصان پہنچا کر ایک ایسے نظام میں پنپ رہے ہیں، جو انتہائی سنگدل اور خبیث ہے، اور جس نے انہیں ذاتی اغراض کا ایسا اسیر بنادیا ہےکہ اُنہیں کچھ سمجھانا مشکل ہے۔ عوام کا استحصال اُن کے لہو میں رچ بس گیا ہے۔ وہ اسلام کا پیغام بھول گئے ہیں … لاکھوں کی تعداد میں ہمارے لوگ ہیں جنہیں مشکل سے دن میں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے۔ کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا یہ پاکستان کا مقصد ہے؟ کیا آپ اپنے تصوّر میں لا سکتے ہیں کہ لاکھوں افرادکا استحصال ہوتا رہاہے اور وہ دن میں ایک وقت کے کھانے سے بھی محروم ہیں! اگر پاکستان کا مطلب یہی ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے۔“

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل ۔ کابینہ کی منظوری

 

یہ بھی پڑھیں،

قراردادِ لاہور 23 مارچ 1940ء اور قائدِ اعظم کا صدارتی خطبہ

1 thought on “”اگر پاکستان کا مطلب یہی ہے تو مجھے ایسا پاکستان نہیں چاہیے“ قائدِ اعظم

  1. یقیناً یہ بات بہت ہی خطرے کی ہے کہ ہماری معیشت اب ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن سے کوٸ اچھاٸ سرزد نہیں ہو سکتی۔یہ بھی بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ہی ہمیں گروی رکھ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے