تاجِ برطانیہ اور قائدِاعظم محمد علی جناح کا حلف
ڈومینین اسٹیٹس کے گورنر جنرل کے حلف کا متن اور قائدِاعظم محمد علی جناح کی خواہش پر کی گئی ترمیم:
جب برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت وزیرِاعظم کلیمنٹ ایٹلی کی قیادت میں برصغیر کی آزادی کا منصوبہ تیار کر رہی تھی ، اُس وقت چرچل حزبِ اختلاف کے رہنما تھے۔ وہ اس منصوبے کے ناقد تھے، اور خاص طور پر لفظ Independence کے استعمال پر معترض تھے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ڈومینین سٹیٹس میں برطانوی بادشاہ ہی ریاست کا سربراہ رہتا ہے اور برطانیہ کا کچھ اثر و رسوخ برقرار رہتا ہے۔
ونسٹن چرچل نے یکم جولائی 1947 کو وزیرِاعظم کلیمنٹ ایٹلی کوایک خط لکھا، جس کا عکس آپ زیرِ نظر مضمون میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ۔ اس خط میں چرچل نے اعتراض کیا کہ حکومت ”India Bill“ کو ”The Indian Independence Bill“ کا عنوان دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چرچل کے مطابق یہ نام غلط تاثر دیتا ہے، کیونکہ ماؤنٹ بیٹن کی تجاویز کے تحت یہ مرحلہ Dominion Status دینے کا تھا، جو مکمل آزادی (Independence) کے مترادف نہیں تھا، کیونکہ اس میں بادشاہِ برطانیہ کے ساتھ وفاداری کا حلف شامل ہوتا ہے۔ چرچل نے کہا کہ آئینی لحاظ سے یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور درست و باضابطہ اصطلاح استعمال ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک صحیح عنوان “The Indian Dominions Bill” ہونا چاہیے، اور وہ
”The India Bill, 1947“ یا ”The India Self-Government Bill“ جیسے عنوانات پر بھی رضامند تھے۔


اس خط کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ فروری 1947 میں اعلان ہوا تھا کہ جون 1948 تک ہندوستان آزاد ہو جائے گا، لیکن جون 1947 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے طے شدہ منصوبے کے مطابق اقتدار 15 اگست 1947 کو دو نئی ریاستوں — ہندوستان اور پاکستان — کو منتقل ہونا تھا، جنہیں ابتدا میں ڈومینین کا درجہ ملنا تھا۔ یہ خط اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ آزادی کے وقت ”Dominion Status“ اور ”Independence“ کی قانونی اصطلاحات پر برطانوی قیادت کے ذہن میں واضح فرق تھا۔
چرچل کے اس خط کو اگر اُس وقت کے سیاسی اور آئینی پس منظر میں دیکھا جائے تو یہ براہِ راست اس بنیادی فرق کو نمایاں کرتا ہے جو برطانیہ کی آئینی اصطلاحات ”Dominion Status“ اور ”Independence“ کے درمیان تھا، اور یہ فرق قائدِاعظم کے حلف والے معاملے کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ چرچل، بطور حزبِ اختلاف کے رہنما، لیبر حکومت کی پالیسیوں کے ناقد تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ”Indian Independence Bill“ کہنا یہ تاثر دے گا کہ برصغیر مکمل خودمختار ریاست بن رہا ہے، جبکہ ماؤنٹ بیٹن پلان کے مطابق نئی ریاستیں (ہندوستان اور پاکستان) Dominion Status کے تحت برطانوی بادشاہ کو اپنا سربراہِ مملکت تسلیم کر رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ:
دونوں ممالک کے گورنر جنرل شاہِ برطانیہ سے وفاداری کا حلف لیں گے، اور برطانیہ کا کچھ آئینی اور علامتی اثر و رسوخ باقی رہے گا، جیسا کہ کینیڈا یا آسٹریلیا میں تھا۔ چرچل سمجھتے تھے کہ ”Independence“ کا لفظ برطانوی عوام اور دنیا کے سامنے اصل آئینی بندوبست کو دھندلا دے گا اور یہ ایک گرےو آئینی غلطی ہوگی۔ اسی لیے انہوں نے ”The Indian Dominions Bill“ یا ”India Self-Government Bill“ جیسے نام تجویز کیے۔
قائدِاعظم کا نقطۂ نظر اور حلف میں تبدیلی
یہاں چرچل کے مؤقف اور قائدِاعظم کے اٹھائے گئےاقدام میں ایک دلچسپ تضاد ہے:
برطانیہ کی طرف سے Dominion Status کا مطلب یہ تھا کہ نئی ریاستیں شاہِ برطانیہ کی وفادار ہوں گی اور حلف میں ”His Majesty“ کے لیے وفاداری کے الفاظ شامل ہوں گے۔ قائدِاعظم نے بطور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اس روایت پر اعتراض کیا اور اصرار کیا کہ حلف میں بادشاہ کی بجائے ”وفاداری آئینِ پاکستان سے“ کا ذکر ہو۔ اس سے قائدِاعظم نے ایک علامتی مگر اہم آئینی پیغام دیا کہ پاکستان کی قانونی وفاداری کا مرکز ملک کا آئین ہوگا، نہ کہ بادشاہت۔
سیاسی و آئینی تناظر میں تعلق
چرچل کے نزدیک ”Dominion Status“ ہی اصل تھا اور اس کا تحفظ ، عنوان اور طریقۂ کار سے ہونا چاہیے تھا، کیونکہ اس سے دونوں ممالک اور برطانیہ کا آئینی رشتہ باقی رہتا۔ اگرچہ قانونی طور پر پاکستان ڈومینین تھا ، تاہم قائدِاعظم کے نزدیک عوام اور ریاست کو بادشاہت کے بجائے آئین سے جوڑنا ضروری تھا۔ یوں، جہاں چرچل الفاظ کے ذریعے برطانوی اختیار کے تاثر کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے، قائدِاعظم اسی سطح پر الفاظ کے ذریعے پاکستان کی آئینی خودمختاری کے تصور کو آگے بڑھا رہے تھے۔
ڈومینین کے سربراہِ مملکت (گورنر جنرل) کا اصل حلف
برطانوی ڈومینین ریاستوں میں گورنر جنرل، جو بادشاہ کا نمائندہ ہوتا تھا، ایک حلف لیتا تھا جس میں یہ الفاظ شامل ہوتے تھے:
” will be faithful and bear true allegiance to His Majesty King George VI, His Heirs and Successors according to law… “
(”میں بادشاہ سلامت جارج ششم، ان کے جانشینوں اور وارثوں کے ساتھ قانون کے مطابق وفاداری اور سچی تابعداری کا حلف اٹھاتا ہوں۔“)
جن قوانین کے ذریعے یہ ڈومینینز قائم ہوئے (جیسے برٹش نارتھ امریکہ ایکٹ 1867 اور کامن و لتھ آف آسٹریلیا کانسٹی ٹیوشن ایکٹ 1900)، انہوں نے ان کو برطانوی پارلیمان کے ماتحت خودمختار انتظامی اکائیاں بنایا، مگر بادشاہ بدستور مکمل طور پر ریاست کا سربراہ رہا۔ ان کے ”پروانۂ آزادی“ (Instruments of Independence) میں آزاد (independent) کا لفظ شامل نہیں تھا، کیونکہ اس وقت ڈومینین کا مطلب مکمل آزادی نہیں بلکہ صرف خود حکومت چلانے کا حق ہوتا تھا۔
یہ الفاظ رائل لیٹرز پیٹنٹ اور گورنر جنرل کے حلف نامے میں تمام ڈومینینز (مثلاً کینیڈا، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، سیلون وغیرہ) میں یکساں طور پر درج ہوتے تھے۔
مثال کے طور پر کینیڈا میں 1940 کی دہائی میں حلف کے الفاظ یوں تھے:
”میں، (نام)، حلف اٹھاتا ہوں کہ میں بادشاہ جارج ششم، ان کے جانشینوں اور وارثوں کے ساتھ قانون کے مطابق وفاداری اور سچی تابعداری کروں گا۔ خدا میری مدد کرے۔“
یہ عبارت تقریباً جوں کی توں گورنر جنرل کے عہدے کے لیٹرز پیٹنٹ میں درج ہوتی تھی۔
قائدِاعظم کی جانب سے حلف میں تبدیلی پر اصرار
جب محمد علی قائدِاعظم پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے تو انہوں نے "ہز میجسٹی” (بادشاہ) کے ساتھ وفاداری کے الفاظ پر اعتراض کیا۔ اس کے بجائے انہوں نے تجویز دی — اور منظور کروا لی — کہ حلف میں وفاداری کا مرکز بادشاہ کے بجائے آئینِ پاکستان ہو۔
ترمیم شدہ الفاظ کچھ اس طرح بنے:
”میں، (نام) ، پختہ اقرار کرتا ہوں کہ میں نافذ العمل آئینِ پاکستان کے ساتھ سچی وفاداری اور ایمان داری سے وابستہ رہوں گا۔۔۔“
یہ تبدیلی غیر معمولی تھی کیونکہ:
اس سے قبل آزادی کے وقت کسی اور ڈومینین نے بادشاہ کا ذکر حلف سے نہیں نکالا تھا۔ ان الفاظ کی تبدیلی سے سیاسی اختیار کا ماخذ بادشاہت سے ہٹ کر آئینی ڈھانچے کو بنا دیا گیا۔ یہ قائدِاعظم کے اس سیاسی اصول کے مطابق تھا کہ حکمران اور عوام، دونوں آئینی حدود کے پابند ہوں۔
یہ تبدیلی کہاں اور کیسے ہوئی
یہ تبدیلی اگست 1947 میں پاکستان کے لیے گورنر جنرل کے حلف کے متن کی تیاری کے دوران طے ہوئی۔ پاکستان کی حکومت اور برطانوی حکومت کے درمیان (گورنر جنرل آفس اور یوکے کے کامن ویلتھ ریلیشنز آفس کے ذریعے) خط و کتابت میں یہ بات طے پائی، اور لندن نے بادل نخواستہ قائدِاعظم کا ترمیم شدہ متن حلف برداری کی تقریب (15 اگست 1947) کے لیے منظور کر لیا۔ ملاحظہ فرمائیں جناح پیپرز (26 جولائی تا 14 اگست 1947) ، پہلی سیریز کا چوتھا والیوم جس سے لی ہوئی دو تصاویر مضمون میں شامل کی جارہی ہیں۔


حکومتِ برطانیہ کی جانب سے منظور شدہ یہ ترامیم پاکستان کے عبوری آئین آرڈر 1947 میں شامل کی گئیں، جس نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی متعلقہ شقوں کو قائدِاعظم کی خواہش کے مطابق ڈھال دیا۔ 3 ستمبر 2022 کے ڈان اخبار میں ،
”From The Past Pages Of Dawn: 1947: Seventy-five years ago: Provisional Constitution“
کے عنوان سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق،
” پاکستان (عبوری آئین) آرڈر، جو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کی ترمیم شدہ شکل ہے اور کراچی سے گزٹ آف پاکستان میں شائع ہوا، نے اس ایکٹ میں موجود الفاظ جیسے ”اپنی صوابدید سے“ اور ”اپنی انفرادی رائے سے فیصلہ کرتے ہوئے“ کو ختم کر دیا ہے۔ اب نہ گورنر جنرل اور نہ ہی صوبائی گورنروں کے پاس کوئی خصوصی اختیارات ہوں گے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ پورے متن میں کہیں بھی بادشاہ کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ تمام تقرریاں، جن میں صوبائی گورنروں اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری بھی شامل ہے، گورنر جنرل کرے گا۔ حلفِ وفاداری میں بھی، جج یا اسمبلی کا رکن تاجِ برطانیہ کے بجائے آئینِ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھائے گا۔“

ترمیم کے بعد فرق
عبوری آئین سے His Majesty the King Emperor کا ذکر نکال کر آئینِ پاکستان سے وفاداری کے الفاظ شامل کئے گئے۔
نیز ”in his discretion“ اور ”exercising his individual judgement“ جیسی شقیں حذف کر دی گئیں، تاکہ گورنر جنرل اور گورنرز صرف کابینہ کے مشورے یا آئینی دائرہ کار میں رہ کر فیصلے کریں۔
ہندوستان کے دستوری ڈھانچے اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قراردادِ لاہور 1940ء پر سر سکندر حیات کا پالیسی بیان

