نوازش علی خان

انگشتر خاتم کے نگیں کاقصیدہ

انگشتر خاتم کے نگیں کاقصیدہ

 (چند بند ۔ نوازش علی خاں)

”مقدور کسے ہو ترے وصفوں کی رقم کا“

الفاظ ہیں عاجز تو نگوں سر ہے قلم    کا

اقلیم تدبر کی بھی  حیران و پریشاں

تمجید تری کیسے کر ے حضرت انساں

مفلوج تعقل ہی نہیں بند زباں  ہے

مولا مرے الفاظ میں طاقت یہ کہاں ہے

لکھنا ہے قصیدہ مجھے سردار   امم  کا

لا ریب جو مالک ہے عرب اور عجم کا

جب ساتھ بہم ہو گیا قرطاس و قلم  کا

ہم سر میں ہوا ماہ کا خورشید و نجم کا

ہے عالم ادیان  کی تکمیل اسی سے

دنیا سے جہالت ہوئی  تحلیل  اسی سے

اے صاحب لو لاک کہاں تجھ سا حسیں ہے

والیل ہیں گیسو تو فجر تیری  جبیں  ہے

قوسین شب قدر کہ سدری کی  فرازی

کرتے ہیں تری عظمت و سطوت کی غمازی

پا پوش کی اک نوک پہ کسری کاقصر  ہے

تو صاحب  جبروت ہے ہر چند بشر ہے

چہرے کا ہر اک نقش مناسب ہے قمر تاب

آنکھوں سے تری مہر منور ہے فلک  تاب

پیشانی پہ سجدوں کا نشاں تیری جہاں تاب

خود خالق اکبر بھی جسے چوم لے بے تاب

قامت ہے کہ سب نور میں نکہت میں دھلا ہے

دروازہ دعاوں کا تری سب پہ کھلا  ہے

یہ فتح مبیں بھی تری بخشش کی گھٹا ہے

اس امر کی شاہد یہی  مروہ  ہے  صفا ہے

تدوین  شب و روز بھی مر ہون ہے تیری

تخلیق خلا ئق بھی تو ممنون  ہے  تیری

اعدا کو تری ذات سے امید ولا ہے

آنکھوں میں تری حضرت مریم کی حیا ہے

یہ پُشت مبارک پہ جو ہلکا سا نشاں ہے

مقسوم دو عالم کا اسی میں ہی نہاں ہے

یہ مُہر نبوت ہے کہ زہرہ کی جبیں  ہے

یا کان جواہر  کا درخشندہ  نگیں  ہے

عیسٰی ہو کہ داؤد  ترے در پہ کھڑ ے ہیں

اس مہر نبوت  میں یہ  موتی  بھی جڑے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے